:
Breaking News

Delimitation Bill: سپریا سولے نے 50 فیصد فارمولے پر حمایت کے اشارے دیے، این ڈی اے میں شامل ہونے کی خبروں کی تردید

top-news
https://maannews.acnoo.com/public/frontend/img/header-adds/adds.jpg

این سی پی (شرد پوار) کی رکن پارلیمنٹ سپریا سولے نے کہا ہے کہ اگر حد بندی بل میں ہر ریاست کے لیے 50 فیصد نشستوں میں اضافے کی شرط شامل کی جاتی ہے تو پارٹی اس پر غور کر سکتی ہے، تاہم این ڈی اے میں شامل ہونے کی خبروں کو انہوں نے مسترد کر دیا۔

15 جولائی | عالم کی خبر:

این سی پی (شرد پوار) کی سینئر رہنما اور رکن پارلیمنٹ سپریا سولے نے حد بندی (Delimitation) بل پر پارٹی کے مؤقف کو واضح کرتے ہوئے کہا ہے کہ اگر حکومت ہر ریاست میں لوک سبھا اور اسمبلی نشستوں میں 50 فیصد اضافے کی تجویز کو بل کا حصہ بناتی ہے تو این سی پی اس پر سنجیدگی سے غور کر سکتی ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ ابھی تک بل کا حتمی مسودہ سامنے نہیں آیا، اس لیے کسی بھی فیصلے سے پہلے اس کی تمام شقوں کا جائزہ لیا جائے گا۔

سپریا سولے نے کہا کہ پارلیمانی امور کے وزیر کرن رجیجو کی جانب سے بل پر بلائی گئی آل پارٹی میٹنگ میں مرکزی وزیر داخلہ امت شاہ بھی موجود تھے، جہاں مختلف سیاسی جماعتوں سے مشاورت کی گئی۔ ان کے مطابق حکومت کی جانب سے 50 فیصد فارمولے پر بات کی گئی، لیکن جب تک یہ تحریری طور پر بل میں شامل نہیں ہوتا، تب تک پارٹی اپنا حتمی مؤقف نہیں دے سکتی۔

انہوں نے یہ بھی کہا کہ اگر حد بندی صرف آبادی کی بنیاد پر کی گئی تو جنوبی ریاستوں کے ساتھ ناانصافی ہو سکتی ہے، اس لیے تمام ریاستوں کے مفادات کو سامنے رکھ کر فیصلہ ہونا چاہیے۔

سپریا سولے نے این ڈی اے میں شامل ہونے کی خبروں کو بے بنیاد قرار دیتے ہوئے کہا کہ این سی پی (شرد پوار) پوری مضبوطی کے ساتھ INDIA اتحاد کا حصہ ہے اور پارٹی کے بارے میں پھیلائی جا رہی افواہوں میں کوئی حقیقت نہیں۔

یہ بیان ایسے وقت میں آیا ہے جب کانگریس کے سینئر رہنما پی۔ چدمبرم نے الزام لگایا ہے کہ حکومت آئینی ترمیمی بل کے لیے ضروری حمایت حاصل کرنے کی کوشش کر رہی ہے۔ ذرائع کے مطابق حکومت مون سون اجلاس میں حد بندی بل پیش کرنے پر غور کر رہی ہے، لیکن ایسا اسی صورت میں ہوگا جب دو تہائی اکثریت کا یقین حاصل ہو جائے۔

ادارتی زاویہ

حد بندی کا معاملہ صرف نشستوں کی تعداد بڑھانے کا نہیں بلکہ وفاقی توازن اور تمام ریاستوں کی مساوی نمائندگی سے بھی جڑا ہوا ہے۔ اسی لیے اس بل پر وسیع اتفاقِ رائے اور شفافیت ضروری ہوگی۔

یہ بھی پڑھیں (Alam Ki Khabar):

پارلیمنٹ مانسون اجلاس کی بڑی تیاریاں

آئینی ترمیمی بل پر سیاسی ہلچل

INDIA اتحاد اور این ڈی اے کی نئی حکمت عملی

https://maannews.acnoo.com/public/frontend/img/header-adds/adds.jpg

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *